کاروار،22؍نومبر (ایس او نیوز)دسمبر 2018میں مہاراشٹرا کی سرحد سے قریب گہرے سمندرکے اندر ماہی گیری کے دوران کسی حادثہ کا شکار ہوکر ’سورنا تریبھوجا‘ نامی کشتی جوغرقاب ہوئی تھی اوراس میں موجود7 ماہی گیر لاپتہ ہوگئے تھے ، ان کے بارے میں تاحال کوئی اتہ پتہ نہ چلنے کی وجہ سے ریاستی حکومت نے اس کو گمشدگی کا خصوصی معاملہ قرار دیا ہے اور معاوضہ کے طور پر متاثرہ خاندانوں کو فی کس 10لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا ہے۔کرناٹکا اسمبلی کے’ بیانکویٹ ہال‘ میں منعقدہ ’عالمی یوم ماہی گیری ‘ سے متعقلہ تقریب کے موقع پرریاستی وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے متاثرین کو معاوضے کے چیکس تقسیم کیے۔
کیا آتنک وادیوں نے اغوا کیا تھا؟: خیال رہے کہ 13 دسمبر 2018کو ملپے سے’ سورن تریبھوجا‘ کشتی ماہی گیری کے لئے نکلی تھی جو مہاراشٹرا سرحد کے قریب مچھیروں سمیت لاپتہ ہوگئی۔بحریہ کے جہاز اور ہیلی کاپٹرس وغیرہ سے کافی دنوں تک کشتی اور مچھیروں کے لئے تلاشی مہم چلائی گئی جس کے دوران کوئی افواہیں جنم لیتی رہیں جس میں ایک گرما گرم خبر یہ بھی تھی کہ کونکن کے ساحلی علاقے میں اس کشتی کو ’آتنک وادیوں‘ نے اغواکرکے مچھیروں کو قید کرلیاہے۔
کیا بحریہ کے جہاز نے ٹکرماری تھی؟: دوسری بات جو زیادہ وثوق کےساتھ بتائی جارہی تھی وہ یہ تھی کہ اس ماہی گیر کشتی کووہاں سے گزرنے والے بحریہ کے جہاز آئی این ایس’ کوچین ‘نے ٹکر ماری اور چپ چاپ موقع پر سے نکل گیا، جس کی وجہ سے کشتی سمیت ماہی گیر ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ لیکن کشتی کے ملبہ اور ماہی گیروں کی لاشوں یا ان کی باقیات کا کہیں بھی پتہ نہیں چل رہاتھا۔ ایک اور بات یہ بھی کہی جارہی تھی کہ جس علاقے میں سورنا تریبھوجا کشتی کے جال بچھائے گئے تھے وہاں سے جب آئی این کوچین بحری جہاز گرزرہاتھا تو اپنے جال بچانے کے لئے کشتی تیزی سے بحری جہاز کی طرف بڑھنے لگی ۔ جہاز پر موجود فوجیوں نے انہیں قریب نہ آنے کی وارننگ دی مگر ماہی گیر وں نے اس پر توجہ نہیں دی اس لئے بحری جہاز سے حملہ کرکے اس کشتی کو غرق کردیا گیا۔ ہندوستانی بحریہ نے بہر حال ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔تلاشی مہم کے دوران احتجاجی مظاہرے ، سیاسی بیان بازیاں اور الزام تراشیاں بھی مسلسل ہوتی رہیں۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود اصل مسئلہ یہ بنا رہا کہ کشتی کا ملبہ اور ماہی گیروں کی لاشوں کا کیا ہوا؟
’ مالون‘سے ہوا ملبہ بر آمد: اسی دوران 2مئی 2019کو ہندوستانی بحریہ کی تلاشی مہم میں شامل ٹیم نے مہاراشٹرا کے مالون نامی علاقے کے سمندر سے سورن تریبھوجاکا ملبہ ڈھونڈ نکالا اور یہ بات صاف ہوگئی کہ کشتی کو آتنگ وادیوں نے اغوا ء نہیں کیا تھا بلکہ وہ واقعی غرقاب ہوگئی تھی ۔ البتہ غرقابی کا وجوہات اور ماہی گیروں کی گم شدگی ابھی تک پر اسرار بنی ہوئی ہے۔9مئی2019 کو انڈین نیوی نے گہرے سمندر سے برآمد کیے گئے ملبے کی جو تصاویر جاری کی تھیں اس میں ماہی گیروں کے تعلق سے کوئی بھی سراغ یا علامات پائے نہیں جاتے ۔کوئی بھی یہ بتانے کو تیار نہیں ہے کہ آخر یہ ماہی گیر کہاں غائب ہوگئے ۔اب تو اس کے بارے میں سیاسی سطح پر یا میڈیا میں کوئی گفتگو اب نہیں ہورہی ہے۔
بھٹکل کے تین مچھیرے شامل تھے: خیال رہے کہ اس غرقاب ہونے والی کشتی پر لاپتہ ہوئے 7 میں سے 6مچھیروں کا تعلق ضلع شمالی کینرا سے ہے ۔ جن میں سے دوکمٹہ مادن گیری ، ایک ہوناور اور تین بھٹکل کے رہنے والے تھے۔چونکہ ابھی تک ان میں سے کسی کی بھی موت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے اس لئے ان کے گھر والے اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید وہ زندہ ہونگے اور کسی دن اچانک ان کے زندہ ہونے کی خبر آجائے گی۔گھر والوں کی اس امید کی وجہ ان کا یہ گمان بھی ہے کہ مہاراشٹرا کے ماہی گیر وں نے ان لوگوں کو پکڑ کر کہیں چھپا رکھا ہوگا۔
موت کی تصدیق نہیں ۔۔مگر!: ادھر حکومت نے اس واقعہ کو گم شدگی کا’ خصوصی معاملہ ‘قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لئے معاوضہ جاری کیا ہے، کیونکہ ان خاندانوں کی کفالت کرنے والوں کی موت کی تصدیق نہ ہونے کے باوجود گہرے سمندر میں کشتی کا ملبہ دستیاب ہونے اور اتنا طویل عرصہ گزرجانے کے بعد اب ان ماہی گیروں کے زندہ ہونے کی کوئی توقع نہ ہونے کے برابرہے۔